حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کردستان میں نمائندہ ولی فقیہ حجت الاسلام والمسلمین عبدالرضا پور ذہبی نے کہا: امام حسین علیہ السلام تمام تاریخی شخصیات سے منفرد ہیں، آپ علیہ السلام سے محبت زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے اور جو شخص دل و جان سے اس راستے میں قدم رکھے گا، وہ اس کی معنوی برکات سے بہرہ مند ہو گا۔
انہوں نے روایت «إِنَّ لِقَتْلِ الْحُسَیْنِ حَرَارَةً فِی قُلُوبِ الْمُؤْمِنِینَ لَا تَبْرُدُ أَبَداً» کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی شہادت میں ایسی حرارت اور تاثیر موجود ہے جو کبھی خاموش نہیں ہوتی۔ صدیوں گزرنے کے باوجود امام حسین علیہ السلام سے محبت میں نہ صرف کمی نہیں آئی بلکہ یہ عشق پوری دنیا میں پھیلتا جا رہا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین پورذہبی نے کہا: انسان جتنا زیادہ ثقافت عاشورا سے مانوس ہوتا جائے، پھر بھی خود کو سیر شدہ محسوس نہیں کرتا کیونکہ اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی محبت ایک بے پایاں سمندر ہے اور ہر مرتبہ انسان پر اس عشقِ الٰہی کا ایک نیا جلوہ آشکار ہوتا ہے۔
کردستان میں نمائندہ ولی فقیہ نے عاشورا کے پیغام کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے میں فنون بالخصوص شاعری کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے ابتدائی برسوں میں آج کی طرح وسیع پیمانے پر عمومی عزاداری کا رواج موجود نہیں تھا تاہم فن اور شاعری نے اس تحریک کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا: شاعر کا ایک شعر، ایک ادبی تخلیق اور ایک فن پارہ انسان کے دل کو کربلا کی طرف متوجہ کرکے اسے معارف عاشورا سے جوڑ سکتا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین پورذہبی نے کہا: امام حسین علیہ السلام تمام تاریخی شخصیات سے منفرد ہیں، آپ علیہ السلام سے محبت زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے اور جو شخص دل و جان سے اس راستے میں قدم رکھے گا، وہ اس کی معنوی برکات سے بہرہ مند ہوگا۔









آپ کا تبصرہ